ترانہ
| دربارِ وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے |
| کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے،کچھ اپنی جزا لے جائیں گے |
| اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے |
| جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے |
| اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں |
| جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے |
| کٹتے بھی چلو،بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں،سرھی بہت |
| چلتے بھی چلو، کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے |
| اے ظلم کے ماتو لب کھولو، چپ رہنے والو چپ کب تک |
| کچھ حشر تو ان سے اُٹھے گا کچھ دور تو نالے جائیں گے |
شاعر کا نام : فیض احمد فیض
پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان
متعلقہ تحریریں:
میں مرمٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
ترے ملنے کو بے کل ہو گۓ ہیں
او میرے مصروف خدا
اکبر( akbar)
ایک رہگزر پر
روشنی