• طلوع عشق
    • زندگي ايک طولاني سفر ہے کہ جس ميں مختلف منزليں ہيں ليکن اس کا ايک بلند بالا ہدف بھي ہے۔ زندگي ميں انسان کا ہدف يہ ہونا چاہيے کہ وہ اپنے اور ديگر موجوداتِ عالم کے وجود کو اپنے معنوي کمال کے لئے استعمال کرے۔
    • امام کا مرحب سے مقابلہ
    • یھودیوں کے بھادر مرحب نے اپنا مبارز طلب کیاجس کے سر پر یمنی خود تھاجس میں ایک پتھر نے سوراخ کردیا تھا اور اس نے یہ خود اپنے سر پر رکھ لیا تھا
    • حکمت وعدل خدا
    • خدا حکیم ھے اوراس کے تمام افعال وامور حکیمانہ ھیں۔ حکمت کے دو معنی ھیں اور دونوں ھی معنی صفات ثبوتی خدا کے زمرے میں آتے ھیں
    • عورت اور ترقی (حصّہ دهم)
    • امریکہ اور یورپ کی تاریخ گواہ ہے کہ مادّی ترقی کے حصول کے لئے عورتوں کا مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ شریک ہونا نہ صرف ناپسندیدہ بلکہ غیر ضروری بھی ہے۔
    • امت کا علاج قرآن پاک ( حصّہ دوّم )
    • مسلم حکمرانوں ایک طرف امت کے روشن مستقبل کی خاطر قرآنی تعلیمات سے مستفید ہوں تو دوسری طرف وہ اسلامی تاریخ کے صحراؤں میں غور و فکر کی گھڑ دوڑ میں حصہ لیں
    • امت کا علاج قرآن پاک
    • مسلمانوں کی تنزلی زوال کی بنیادی وجوہات میں جہاں ایک طرف باہمی فسق و فجور نفاق استعماری حکومتوں کی غلامی کرپشن لوٹ مار اقربا پروری ایسے بے ضمیر عناصر شامل ہیں
    • قرآن سے شفاعت ( حصّہ پنجم )
    • من جملہ بعض اعتقادات امامیہ میں سے ثبوت شفاعت ہے نہ مجموعی طور سے کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات اور وحی و تنزیل سے وارد شدہ روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں
    • سفیر حسینی ( حصہ چہارم )
    • بیعت کرنے والوں کی کثیر تعداد نے جناب مسلم کو اس طرح سے مطمئن کر دیا تھا کہ اگر امام کوفہ تشریف لے آئیں تو تمام امور از سر نو انجام پائیں گے آپ نے خط میں امام کو لکھا کہ کوفہ میں اٹھارہ ہزار لوگ آپ کے نام پربیعت کر چکے ہیں
    • سفیر حسینی ( حصہ سوم )
    • جب اس واقعہ خبر ‘لقمان ابن بشیر انصاری، کو پہنچی جو اس وقت کوفہ کا گورنر تھا وہ کہڑا ہوا اور اس نے بھی زور دار تقریر کی اور لوگوں کو ڈرایا دھمکایا اس کے بعد’ عبید اللہ ابن سعید حضرمی’ جو بنی امیہ کا ہم پیمان تھا بعنوان اعتراض اپنی جگہ سے اٹھا
    • سفیر حسینی ( حصہ دوم )
    • جب میں مدینہ سے نکلا تو میں نے دو راہنمائوں کو راستے سے آگاہی کے لئے اجرت پر اپنے ساتھ لے لیا تھا لیکن اس کے باوجود راستے کو گم کر دیا گرمی کی حرارت اور پیاس کی شدت نے ہم پر غلبہ کر لیا تھا اس وقت پانی نصیب ہوا
    • سفیر حسینی
    • جناب مسلم جناب عقیل ابن ابوطالب کے فرزند اور عقیل امام علی کے بھائی اس طرح مسلم امام حسین (ع) کے چچا زاد بھائی ہیں ۔
    • جہالت و پستي، انسان کے دو بڑے دشمن
    • آج انسان نے دنيا ميں جہاں کہيں بھي چوٹ کھائي ہے خواہ وہ سياسي لحاظ سے ہو يا فوجي و اقتصادي لحاظ سے، اگر آپ اُس کي جڑوں تک پہنچيں تو آپ کو يا جہالت نظر آئے گي يا پستي ۔
    • امامت کي ملوکيت ميں تبديلي
    • اسلام کے ہاتھوں ايک آئيڈيل حکومت کي نبياد رکھي گئي ، اگر ہم اِس تناظر ميں واقعہ کربلا اور تحريک حسيني کا خلاصہ کرنا چاہيں تو اِس طرح بيان کرسکتے ہيں کہ امام حسين (ع) کے زمانے ميں بشريت؛ ظلم و جہالت اور طبقاتي نظام کے ہاتھوں پس رہي تھي
    • حسيني تحريک کا خلاصہ
    • زيارت پڑھنے والا خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ’’ امام حسين (ع) نے اپني پوري ہستي اور دنيا ، اپني جان اور خون کو تيري راہ ميں قربان کرديا
    • فیصلہ
    • مجسٹریٹ : تم دو ٹوک جواب دو تم نے جرم کیا ہے یا نہیں؟
    • رزلٹ
    • باپ : کیا تمہارا سالانہ امتحان ختم ہو گیا ہے؟
    • لفٹ
    • گاہک ہوٹل کے بیرے سے کہہ رہا تھا میں اس کمرے میں ہر گز نہیں رہوں گا۔ کیا تم نے مجھے جانور سمجھ رکھا ہے۔اس میں تو صرف ایک اسٹول پڑا ہے۔
    • عزت
    • گاہک: (دوکاندار سے) یاد رکھو آئندہ میرا کتا بھی تمہاری دکان پر آئے تو تمہیں اس کی عزت کرنا ہوگی۔
    • ہر لمحہ زندگی کا مکمل حیات ہے
    • مدینہ میں وارد ہوتے ہی سرور کائنات (ص) نے انسان کی تربیت کا فریضہ انجام دینا شروع کردیا، جن کے نتیجہ میں روز بروز شائستہ، شجاع، مدبر، مومن، با معرفت اور حکیم افراد مدینہ میں ظاہر ہوئے
    • فتح خیبر
    • جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عزت بخشی اور قریش ذلیل و رسوا ھوئے تو نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے یہ مشاھدہ فرمایا کہ مسلمانوں کے امور اس وقت تک درست نھیں ھوں گے
    • انسان دوستى اور بچّے
    • سب لوگ الله کے بندے ہیں سب کا ماں باپ ایک ہے اور در اصل ہر انسان ایک خاندان کا فردہے الله تعالى نے انہیں پیدا کیا ہے اور انہیں پسند کرتا ہے ہر کسى کو روزى دیتا ہے ان کى ضروریات کو الله نے پیدا کیا ہے
    • بچّون کا احترام (دوسرا حصّہ)
    • رسول الله ہمیشہ اور ہر جگہ بچوں سے محبت اور شفقت سے پیشآتے جب وہ سفر سے واپس آتے تو بچے ان کے استقبال کے لیے دوڑتے رسول الله ان سے پیار کرتے ، محبت کرتے اور ان میں سے بعض کو اپنے ساتھ سوار کرلیتے اور اپنے اصحاب سے بھى وہ کہتے کہ دوسروں کو وہ سوار کرلیں
    • بچّون کا احترام
    • بچہ بھى ایک انسان ہوتا ہے اور ہر انسان کو اپنے آپ سے محبت ہوتى ہے اس کى خواہش ہوتى ہے کہ دوسرے اس کى قدر جانین اور اس کا احترام کریں دوسرے جب اس کا احترام کرتے ہیں
    • خودشناسى اور بامقصد زندگی
    • حیوان کى سارى زندگى کھانے ، سونے ، خواہشات نفسکى تکمیل اور اولاد پیداکرنے سے عبارت ہے حیوان کى عقل اور آگاہى کامل نہیں ہوتى وہ اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کرسکتا
    • عورت اور ترقی (حصّہ نهم)
    • ہمارے خیال میں خواتین کی اسمبلیوں میں صنفی کارکردگی نہ دکھانے کا سبب مردوں کی طرف سے ان کی مخالفت یا تنقید نہیں ہے۔
    • نقارہ
    • نر ناری کی جوڑی ڈٹھی جب بولے تب لاگے مٹِھی/ اک نہائے اک تاپن ہارا چل خسرو کر کوچ نقارہ
    • دیا
    • بالا تھا جب سب کو بھایا بڑھا ہوا کچھ کام نہ آیا/ خسرو کہہ دیا اس کا ناؤ ں ارتھ کرو نہیں چھاڈو گاؤ ں
    • قوم لوط (ع) كا اخلاق
    • اسلامى روايات وتواريخ ميں جنسى انحراف كے ساتھ ساتھ قوم لوط (ع) كے برے اور شرمناك اعمال اور گھٹيا كردار بھى بيان ہوا ہے
    • صبح كے وقت نزول عذاب كيوں؟
    • يہاں پر ذہن ميں يہ سوال پيدا ہوتاہے كہ نزول عذاب كےلئے صبح كا وقت كيوں منتخب كيا گيا رات كے وقت ہى عذاب كيوں نازل نہيں ہوا ؟
    • كيا صبح قريب نہيں ہے؟
    • بالآخر انھوں نے لوط سے آخرى بات كہي: نزول عذا ب كا لمحہ اور وعدہ كى تكميل كا موقع صبح ہے اور صبح كى پہلى شعاع كے ساتھ ہى اس قوم كى زندگى غروب ہوجائے گى
    • اے لوط (ع) آپ پريشان نہ ہويئے
    • آخر كار پروردگار كے رسولوں نے حضرت لوط كى شديد پريشانى ديكھى اور ديكھا كہ وہ روحانى طور پر كس اضطراب كا شكار ہيں تو انہوں نے اپنے اسرار كار سے پردہ اٹھايا
    • اے كاش ميں تم سے مقابلہ كرسكتا
    • بہر حال جب حضرت لوط عليہ السلام نے ان كى يہ جسارت اور كمينہ پن ديكھى تو انھوں نے ايك طريقہ اختيار كيا تاكہ انھيں خواب غفلت اور انحراف وبے حيائي كى مستى سے بيدار كرسكيں
    • قوم لوط (ع) آپ كے گھر ميں داخل ہوگئي
    • شہروالوں كو جب لوط عليہ السلام كے پاس آنے والے نئے مہمانوں كا پتہ چلا تو وہ ان كے گھر كى طرف چل پڑے، راستے ميں وہ ايك دوسرے كو خوش خبرى ديتے تھے
    • واقعہ کربلا کے پس پردہ عوامل
    • کربلا سے حاصل کي جانے والي عبرتيں يہ ہيں کہ انسان غور وفکر کرے کہ وہ اسلامي معاشرہ کہ جس کي سربراہي پيغمبر خدا (ص) جيسي ايک غير معمولي ہستي کے پاس تھي
    • جب خلافت کے معيار و ميزان تبديل ہو جائيں!
    • ايک وہ زمانہ تھا کہ جب مسلمانوں کيلئے تمام شعبہ ہائے زندگي ميں اسلام کي پيش رفت، ہر قيمت پر رضائے الٰہي کا حصول، اسلامي تعليمات کا فروغ اور قرآن و قرآني تعليمات سے آشنائي ضروري و لازمي تھي۔