صفحه اصلی تبیان
شبکه اجتماعی
مشاوره
آموزش
فیلم
صوت
تصاویر
حوزه
کتابخانه
دانلود
وبلاگ
فروشگاه اینترنتی
منگل 30 جون 2026
فارسي
العربیة
اردو
Türkçe
Русский
English
Français
تعارفی نام :
پاسورڈ :
تلاش کریں :
:::
اسلام
قرآن کریم
صحیفه سجادیه
نهج البلاغه
مفاتیح الجنان
انقلاب ایران
مسلمان خاندان
رساله علماء
سروسز
صحت و تندرستی
مناسبتیں
آڈیو ویڈیو
اصلی صفحہ
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
طلوع عشق
زندگي ايک طولاني سفر ہے کہ جس ميں مختلف منزليں ہيں ليکن اس کا ايک بلند بالا ہدف بھي ہے۔ زندگي ميں انسان کا ہدف يہ ہونا چاہيے کہ وہ اپنے اور ديگر موجوداتِ عالم کے وجود کو اپنے معنوي کمال کے لئے استعمال کرے۔
ضحّاک کی کہانی کا انیسواں اور بیسواں حصّہ
ضحاک ۔ اے میرے معبودوں کے خاص پرستارو!تم ہمارے معبودوں کے سایہءعاطفت، میں تمام ظاہری وباطنی رموزواَسرار سےواقف ہو!
امام کا مرحب سے مقابلہ
یھودیوں کے بھادر مرحب نے اپنا مبارز طلب کیاجس کے سر پر یمنی خود تھاجس میں ایک پتھر نے سوراخ کردیا تھا اور اس نے یہ خود اپنے سر پر رکھ لیا تھا
قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی
انسان اپنی فہم و فراست، سوجھ بوجھ اور عقل و دانش کے مطابق ہی کسی نظریئے یا شخصیت کے بارے میں اظہارِ محبت یا نفرت کرتا ہے۔
حکمت وعدل خدا
خدا حکیم ھے اوراس کے تمام افعال وامور حکیمانہ ھیں۔ حکمت کے دو معنی ھیں اور دونوں ھی معنی صفات ثبوتی خدا کے زمرے میں آتے ھیں
عورت اور ترقی (حصّہ دهم)
امریکہ اور یورپ کی تاریخ گواہ ہے کہ مادّی ترقی کے حصول کے لئے عورتوں کا مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ شریک ہونا نہ صرف ناپسندیدہ بلکہ غیر ضروری بھی ہے۔
ایک ایک قطرئے کا مجھے دینا پڑا حساب / خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا
حساب دینا پڑا یعنی آنکھوں سے خون بہانا پڑا گویا خونِ جگر اُس کی امانت تھا ۔
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا / شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرداب تھا
یعنی ابر کا زہرہ آب تھا اور جو گرداب اس میں پڑتا تھا وہ شعلہ جوالہ تھا ، یہ فقط میرے سوزِ دل کی تاثیر تھی ۔
امت کا علاج قرآن پاک ( حصّہ دوّم )
مسلم حکمرانوں ایک طرف امت کے روشن مستقبل کی خاطر قرآنی تعلیمات سے مستفید ہوں تو دوسری طرف وہ اسلامی تاریخ کے صحراؤں میں غور و فکر کی گھڑ دوڑ میں حصہ لیں
امت کا علاج قرآن پاک
مسلمانوں کی تنزلی زوال کی بنیادی وجوہات میں جہاں ایک طرف باہمی فسق و فجور نفاق استعماری حکومتوں کی غلامی کرپشن لوٹ مار اقربا پروری ایسے بے ضمیر عناصر شامل ہیں
قرآن سے شفاعت ( حصّہ پنجم )
من جملہ بعض اعتقادات امامیہ میں سے ثبوت شفاعت ہے نہ مجموعی طور سے کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات اور وحی و تنزیل سے وارد شدہ روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں
سفیر حسینی ( حصہ چہارم )
بیعت کرنے والوں کی کثیر تعداد نے جناب مسلم کو اس طرح سے مطمئن کر دیا تھا کہ اگر امام کوفہ تشریف لے آئیں تو تمام امور از سر نو انجام پائیں گے آپ نے خط میں امام کو لکھا کہ کوفہ میں اٹھارہ ہزار لوگ آپ کے نام پربیعت کر چکے ہیں
سفیر حسینی ( حصہ سوم )
جب اس واقعہ خبر ‘لقمان ابن بشیر انصاری، کو پہنچی جو اس وقت کوفہ کا گورنر تھا وہ کہڑا ہوا اور اس نے بھی زور دار تقریر کی اور لوگوں کو ڈرایا دھمکایا اس کے بعد’ عبید اللہ ابن سعید حضرمی’ جو بنی امیہ کا ہم پیمان تھا بعنوان اعتراض اپنی جگہ سے اٹھا
سفیر حسینی ( حصہ دوم )
جب میں مدینہ سے نکلا تو میں نے دو راہنمائوں کو راستے سے آگاہی کے لئے اجرت پر اپنے ساتھ لے لیا تھا لیکن اس کے باوجود راستے کو گم کر دیا گرمی کی حرارت اور پیاس کی شدت نے ہم پر غلبہ کر لیا تھا اس وقت پانی نصیب ہوا
سفیر حسینی
جناب مسلم جناب عقیل ابن ابوطالب کے فرزند اور عقیل امام علی کے بھائی اس طرح مسلم امام حسین (ع) کے چچا زاد بھائی ہیں ۔
کربلا ہے اِک آفتاب اور اُس کي تنويريں بہت!
محرم سے متعلق دو قسم کي باتيں کي جا سکتي ہيں جن ميں سے ايک خود واقعہ کربلا سے متعلق ہے۔
امامت و سلطنت کا بنيادي فرق
امامت يعني وہ نظام کہ جو خدا کي عطا کي ہوئي عزت کو لوگوں کيلئے لے کر آتا ہے، لوگوں کو علم و معرفت عطا کرتا ہے
جہالت و پستي، انسان کے دو بڑے دشمن
آج انسان نے دنيا ميں جہاں کہيں بھي چوٹ کھائي ہے خواہ وہ سياسي لحاظ سے ہو يا فوجي و اقتصادي لحاظ سے، اگر آپ اُس کي جڑوں تک پہنچيں تو آپ کو يا جہالت نظر آئے گي يا پستي ۔
سيد الشہدا کے مبارزے کي دو صورتيں
امام حسين (ع) کے قيام و مبارزے کي دوصورتيں ہيں اور دونوں کا اپنا اپنا الگ نتيجہ ہے اور دونوں اچھے نتائج ہيں
امامت کي ملوکيت ميں تبديلي
اسلام کے ہاتھوں ايک آئيڈيل حکومت کي نبياد رکھي گئي ، اگر ہم اِس تناظر ميں واقعہ کربلا اور تحريک حسيني کا خلاصہ کرنا چاہيں تو اِس طرح بيان کرسکتے ہيں کہ امام حسين (ع) کے زمانے ميں بشريت؛ ظلم و جہالت اور طبقاتي نظام کے ہاتھوں پس رہي تھي
حسيني تحريک کا خلاصہ
زيارت پڑھنے والا خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ’’ امام حسين (ع) نے اپني پوري ہستي اور دنيا ، اپني جان اور خون کو تيري راہ ميں قربان کرديا
محرم نہیں ہے تو ہی نواہائے راز کا / یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
یعنی جس چیز کو تو عالم حقیقت کا حجاب سمجھتا ہے وہ رباب کا ایک پردہ ہے جس سے نغمہ ہائے رازِ حقیقت بلند ہیں مگر اس کے تال سر سے تو خود ہی واقف نہیں لطف نہیں اُٹھاسکتا ۔
شہداۓ کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیۓ یوم عاشورہ کے موقع پر خصوصی اشاعت
واقعہ کربلا اسلامی تاریخ ایک اہم موڑ ہے جب خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی سربلندی کے لیۓ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوۓ حق کا علم بلند کیا ۔
فیصلہ
مجسٹریٹ : تم دو ٹوک جواب دو تم نے جرم کیا ہے یا نہیں؟
رزلٹ
باپ : کیا تمہارا سالانہ امتحان ختم ہو گیا ہے؟
لفٹ
گاہک ہوٹل کے بیرے سے کہہ رہا تھا میں اس کمرے میں ہر گز نہیں رہوں گا۔ کیا تم نے مجھے جانور سمجھ رکھا ہے۔اس میں تو صرف ایک اسٹول پڑا ہے۔
عزت
گاہک: (دوکاندار سے) یاد رکھو آئندہ میرا کتا بھی تمہاری دکان پر آئے تو تمہیں اس کی عزت کرنا ہوگی۔
بیسویں صدی کی آخر دو دہائیوں میں اُردو ناول کے موضوعات و رجحانات (چھٹا حصّہ)
قصور لوگوں کا نہیں ان کا ہے جنہوں نے انہیں بے بس کردیا۔ ایک صدی سے ملک خانہ جنگی کا شکار ہے۔ کھبی مغلوں کے شہزادے آپس میں لڑتے مرتے رہے پھر مرہٹے، سکھ، گورے عام آدمی نےسب دکھ اٹھایا ہے وہ کس طرح دہلی کے بادشہ کے لئے کچھ قربان کرسکتے ہیں
بیسویں صدی کی آخر دو دہائیوں میں اُردو ناول کے موضوعات و رجحانات (پانچواں حصّہ)
بانو قدسیہ کا راجہ گدھ (۱۹۸۱ء) موضوع کے لحاظ سے تو منفرد ہے لیکن زبان بھی بے حد رواں اور سلیس ہے بانو نے ثقیل الفاظ سے اجتناب برتا ہے۔
ہر لمحہ زندگی کا مکمل حیات ہے
مدینہ میں وارد ہوتے ہی سرور کائنات (ص) نے انسان کی تربیت کا فریضہ انجام دینا شروع کردیا، جن کے نتیجہ میں روز بروز شائستہ، شجاع، مدبر، مومن، با معرفت اور حکیم افراد مدینہ میں ظاہر ہوئے
فتح خیبر
جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عزت بخشی اور قریش ذلیل و رسوا ھوئے تو نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے یہ مشاھدہ فرمایا کہ مسلمانوں کے امور اس وقت تک درست نھیں ھوں گے
انسان دوستى اور بچّے
سب لوگ الله کے بندے ہیں سب کا ماں باپ ایک ہے اور در اصل ہر انسان ایک خاندان کا فردہے الله تعالى نے انہیں پیدا کیا ہے اور انہیں پسند کرتا ہے ہر کسى کو روزى دیتا ہے ان کى ضروریات کو الله نے پیدا کیا ہے
بچّون کا احترام (دوسرا حصّہ)
رسول الله ہمیشہ اور ہر جگہ بچوں سے محبت اور شفقت سے پیشآتے جب وہ سفر سے واپس آتے تو بچے ان کے استقبال کے لیے دوڑتے رسول الله ان سے پیار کرتے ، محبت کرتے اور ان میں سے بعض کو اپنے ساتھ سوار کرلیتے اور اپنے اصحاب سے بھى وہ کہتے کہ دوسروں کو وہ سوار کرلیں
بچّون کا احترام
بچہ بھى ایک انسان ہوتا ہے اور ہر انسان کو اپنے آپ سے محبت ہوتى ہے اس کى خواہش ہوتى ہے کہ دوسرے اس کى قدر جانین اور اس کا احترام کریں دوسرے جب اس کا احترام کرتے ہیں
خودشناسى اور بامقصد زندگی
حیوان کى سارى زندگى کھانے ، سونے ، خواہشات نفسکى تکمیل اور اولاد پیداکرنے سے عبارت ہے حیوان کى عقل اور آگاہى کامل نہیں ہوتى وہ اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کرسکتا
عورت اور ترقی (حصّہ نهم)
ہمارے خیال میں خواتین کی اسمبلیوں میں صنفی کارکردگی نہ دکھانے کا سبب مردوں کی طرف سے ان کی مخالفت یا تنقید نہیں ہے۔
عورت اور ترقی (حصّہ هشتم)
حکومت اور سیاسی عمل میں مساویانہ بنیادوں پر شرکت تحریک حقوق نسواں کا شروع سے مطالبہ رہا ہے۔
نقارہ
نر ناری کی جوڑی ڈٹھی جب بولے تب لاگے مٹِھی/ اک نہائے اک تاپن ہارا چل خسرو کر کوچ نقارہ
دیا
بالا تھا جب سب کو بھایا بڑھا ہوا کچھ کام نہ آیا/ خسرو کہہ دیا اس کا ناؤ ں ارتھ کرو نہیں چھاڈو گاؤ ں
قوم لوط (ع) كا اخلاق
اسلامى روايات وتواريخ ميں جنسى انحراف كے ساتھ ساتھ قوم لوط (ع) كے برے اور شرمناك اعمال اور گھٹيا كردار بھى بيان ہوا ہے
صبح كے وقت نزول عذاب كيوں؟
يہاں پر ذہن ميں يہ سوال پيدا ہوتاہے كہ نزول عذاب كےلئے صبح كا وقت كيوں منتخب كيا گيا رات كے وقت ہى عذاب كيوں نازل نہيں ہوا ؟
كيا صبح قريب نہيں ہے؟
بالآخر انھوں نے لوط سے آخرى بات كہي: نزول عذا ب كا لمحہ اور وعدہ كى تكميل كا موقع صبح ہے اور صبح كى پہلى شعاع كے ساتھ ہى اس قوم كى زندگى غروب ہوجائے گى
اے لوط (ع) آپ پريشان نہ ہويئے
آخر كار پروردگار كے رسولوں نے حضرت لوط كى شديد پريشانى ديكھى اور ديكھا كہ وہ روحانى طور پر كس اضطراب كا شكار ہيں تو انہوں نے اپنے اسرار كار سے پردہ اٹھايا
اے كاش ميں تم سے مقابلہ كرسكتا
بہر حال جب حضرت لوط عليہ السلام نے ان كى يہ جسارت اور كمينہ پن ديكھى تو انھوں نے ايك طريقہ اختيار كيا تاكہ انھيں خواب غفلت اور انحراف وبے حيائي كى مستى سے بيدار كرسكيں
قوم لوط (ع) آپ كے گھر ميں داخل ہوگئي
شہروالوں كو جب لوط عليہ السلام كے پاس آنے والے نئے مہمانوں كا پتہ چلا تو وہ ان كے گھر كى طرف چل پڑے، راستے ميں وہ ايك دوسرے كو خوش خبرى ديتے تھے
واقعہ کربلا کے پس پردہ عوامل
کربلا سے حاصل کي جانے والي عبرتيں يہ ہيں کہ انسان غور وفکر کرے کہ وہ اسلامي معاشرہ کہ جس کي سربراہي پيغمبر خدا (ص) جيسي ايک غير معمولي ہستي کے پاس تھي
برائيوں کي گندگي سے اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے ديں
دين کي پيروي ، تقويٰ سے تمسک، پاکدامني کي اہميت اور معنويت کي قدر وقيمت کا اندازہ يہاں ہوتا ہے۔
واقعہ کربلا کے پس پردہ عوامل ( حصّہ دوّم )
آپ ايسے معاشرے کا اُس نبوي معاشرے سے موازنہ کريں تاکہ آپ کو دونوں کا فرق معلوم ہوسکے۔
جب خلافت کے معيار و ميزان تبديل ہو جائيں!
ايک وہ زمانہ تھا کہ جب مسلمانوں کيلئے تمام شعبہ ہائے زندگي ميں اسلام کي پيش رفت، ہر قيمت پر رضائے الٰہي کا حصول، اسلامي تعليمات کا فروغ اور قرآن و قرآني تعليمات سے آشنائي ضروري و لازمي تھي۔
واقعہ کربلا سے حاصل ہونے والی عبرتیں (حصّہ سوّم )
اگر ايک معاشرے ميں ايک بيماري موجود ہو تو وہ بيماري اُس معاشرے کوکہ جس کے حاکم پيغمبر اکرم (ص) اور امير المومنين جيسي ہستيار ںہیں
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
اصلی صفحہ
ہمارے بارے میں
رابطہ کریں
آپ کی راۓ
سائٹ کا نقشہ
صارفین کی تعداد
کل تعداد
آن لائن