صفحه اصلی تبیان
شبکه اجتماعی
مشاوره
آموزش
فیلم
صوت
تصاویر
حوزه
کتابخانه
دانلود
وبلاگ
فروشگاه اینترنتی
منگل 30 جون 2026
فارسي
العربیة
اردو
Türkçe
Русский
English
Français
تعارفی نام :
پاسورڈ :
تلاش کریں :
:::
اسلام
قرآن کریم
صحیفه سجادیه
نهج البلاغه
مفاتیح الجنان
انقلاب ایران
مسلمان خاندان
رساله علماء
سروسز
صحت و تندرستی
مناسبتیں
آڈیو ویڈیو
اصلی صفحہ
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
شریر لڑکا
جعفری اک شریر لڑکا ہے/ مدرسے وقت پر نہیں جاتا
چڑیوں کی شکایت
چڑیوں نے بے طرح ستایا ہے/ چھت پہ ان کو جہاں ملی ہے جگہ
ارادے
جواں ہو کے میں خو ب محنت کروں گا/ تجارت کروں گا ۔تجارت کروں گا
او صبح کے ستارے
جلوہ دکھا رہا ہے!/ کرنیں لٹا رہا ہے!
جگنو
کنارے جھیل کے پھر تا ہے جگنو/ ہوا کی گود میں اک روشنی ہے
سورۂ بقره کي آيات نمبر 23-22 کي تفسير
خداوند قرآن کی حمد و نیائش اور محمد و آل محمد علیہم السلام پر درود و ستائش کے ساتھ کلام نور لیکر حاضر ہیں سورۂ بقرہ کی بائیسویں آیت میں جو اس سے قبل کی آیت کا ہی تتمہ ہے
سورۂ بقره کي آيات نمبر 21-19 کي تفسير
آنکھ اور کان کی مانند فہم و ادراک کے جو ذرائع اللہ نے انسان کو عطا کئے ہیں علمی اور عملی سعادتوں کا عظیم سرمایہ ہیں ان سے صحیح استفادہ اللہ کا سب سے بڑا شکر ہے سورۂ نحل کی آیت اٹہتر کے مطابق اللہ نے ہی تمہارے لئے کان آنکھ اور دل قرار دئے
سورۂ بقره کي آيات نمبر 18-16 کي تفسير
نبی رحمت اور ان کی عترت طاہرہ پر درود و سلام کے ساتھ کلام نور لیکر حاضر ہیں ۔عزیزان محترم! جیسا کہ سورۂ بقرہ کے آغاز میں ہی خداوند عالم نے قرآن حکیم کو متقی و پرہیزگار مومنین کے لئے کتاب ہدایت قرار دیا ہے
سورۂ بقره کي آيت نمبر 14 کي تفسير
خداوند کلام کی حمد و ستائش اور حامل وحی و رسالت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اور ان کے اہلبیت مکرم پر درود وسلام کے ساتھ تفسیر کا نیا سلسلہ کلام نور لیکر حاضر ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے گفتگو منافقین کے سلسلے میں چل رہی تھی
سورۂ بقره کي آيات نمبر13-11 کي تفسير
آسان و عام فہم سلسلہ وار تفسیر کے نئے آغاز کلام نور کے ساتھ حاضر ہیں انسانی معاشرے میں مختلف فکر کے لوگ پائے جاتے ہیں اور ایمان و عقائد کے لحاظ سے ان کی پہچان نہ ہو تو انسان معاشرت کے حقوق و فرائض صحیح طور پر ادا نہیں کرسکتا
سورۂ بقره کي آيت نمبر9 کي تفسير
اہل ایمان و اہل کفر کے علاوہ انسانی معاشرے میں بہت سے لوگ اپنے ظاہر و باطن کے لحاظ سے دوہری زندگي گزارتے ہیں ظاہر کچھ اور ہے باطن کچھ اور اس طرح کے لوگوں کو قرآن نے منافق کے نام سے یاد کیا ہے
سورۂ بقره کي آيات نمبر 7-6 کي تفسير
خداوند حکیم کی حمد و ستائش اور حامل وحی و قرآن رسول، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اور ان کے اہلبیت کریم پر درود و سلام کے ساتھ کلام نور لیکر حاضر ہیں۔
سورۂ بقره کي آيات نمبر 5-4 کي تفسير
خداوند قرآن کی حمد و ستائش اور حامل وحی و رسالت پیغمبر اعظم(ص) اور ان کی عترت مکرم پر درود و سلام کے ساتھ کلام نور میں آج ہم اپنی گفتگو سورۂ بقرہ کی چوتھی آیت سے شروع کر رہے ہیں
سورۂ بقره کي آيات نمبر 3-2 کي تفسير
خداوند حکیم کی حمد و ستائش اور نبی کریم(ص) اور اہلبیت علیہم السلام پر درود و سلام کے ساتھ کلام نور لیکر حاضر ہیں ۔
سورۂ بقره کي آيت نمبر 1 کي تفسير
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں قرآن کریم ، ہر عہد اور زمانے کے ہر انسان اور ہر بشر کے لئے کتاب ہدایت ہے اور اس کتاب کو خداوند عالم نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم پر ان کی رسالت کے ابدی اور جاوداں معجزے کے طور نازل کیا ہے
دینی جمہوریت اور ڈیموکریسی ( حصّہ پنجم )
دینی جمہوریت کی نئی مثال نے بشریت کے سامنے ایک نیا راستہ پیش کیا ہے جس میں، انفرادی یا جماعتی استبداد اور صاحبان دولت و ثروت اور غارتگروں کے نفوذ سے قائم ہونے والے نظاموں کی برائیوں ، مادہ پرستی اور گناہوں میں غرق ہونے
دینی جمہوریت اور ڈیموکریسی ( حصّہ چہارم )
دینی جمہوریت کی حقیقی صورت یہ ہے کہ نظام کو خدا کی ہدایت اور عوام کے ارادے سے چلنا چاہئے۔
دینی جمہوریت اور ڈیموکریسی ( حصّہ سوّم )
آج وہ بہترین چیز جو ملک کے حکام کی راہ و روش اور رفتار و کردار کی اصلاح کی بنیاد اور معیار بن سکتی ہے، دینی جمہوریت ہے۔
دینی جمہوریت اور ڈیموکریسی ( حصّہ دوّم )
جمہوریت کا تعلق در اصل اسلام سے ہے۔ صحیح اور منطقی شکل میں جمہوریت کا بانی اسلام ہے
دینی جمہوریت اور ڈیموکریسی
ڈیموکریسی یعنی ملک چلانے اور حکومت کے سیاسی طریقۂ کار میں عوام کی رائے کا معیار اور بنیاد قرار پانا۔
اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکی اقتصادی پابندیوں کے مثبت آثار کی طرف ایک اور قدم
ایران میں عامل خون ( فیکٹر 7 ) کی تیاری کے لیۓ کارخانے کا افتتاح ہو گیا ۔
عظمت دوجہاں محمد اور انسانی حقوق(حصہ دوم)
کسی دوسرے انسان کےحقوق کو عزت کی نگاہ سےدیکھنےکا مطلب یہ ہےکہ اس کی قدر و قیمت اس کےانسانی اوصاف کی بناء پر ہونی چاہیےنہ کہ اس کی شخصیت کی بناء پر ، اس میں ظاہری حد بندیوں، اختلافات اور نظریاتی کشمکش کی عمل داری نہیں ہونی چاہئے
عظمت دوجہاں محمد اور انسانی حقوق(حصہ اول)
موجودہ انسانی مصائب سےنجات ملنےکی واحد صورت یہی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا کےحکمران (رہنما) بنیں
نماز پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری وصیت
عام طور سے لوگ اس بات کے خواہشمند ہوتے ہیں کہ بزرگ شخصیتوں اور مقدس انسانوں کی آخری وصیت کو جانیں ، کون ہے جس کی شخصیت رسول اکرم (ص) سے زیادہ با عظمت ہوگی، کون ہے جو رسول اکرم کے کمالات کی منزلوں کو پا سکتا ہے
محمد (ص) بیسویں صدی میں
یورپ نے بیسویں صدی میں اسلام و محمد(ص) کامقابلہ کرنے کےلئے سلمان رشدی مرتد کا سہارالیا جواس کے ماتھے پرکلنک کا ٹیکہ بن گيا
محمد (ص) و اسلام انیسویں صدی میں یورپ میں
انیسویں صدی میں نپولین نے مصر پرحملہ کیا وہ مصر سے شام اور یوروشلیم جانا چاھتے تھے اور وہاں سے قسطنطنیہ سے ہوتے ہوۓ یورپ واپس جانے کا ارادہ رکھتے تھے
محمد (ص) یورپ کی نظر میں (حصہ سوم)
اس زمانے میں یورپ میں ہیروپرستی ہرطرف رائج تھی اورمعاشرےپر اس کے گہرے اثرات تھے جرمن ادیب گوئيٹہ نے سترہ سو بہتر میں ایک ڈرامہ لکھا جس کا نام محومت تھا اس کے ایک حصے کا عنوان ترانہ محومت ہے
محمد (ص) ہیرو پرستی کے دور میں
اٹھارویں صدی نپیولین کے نام سے شروع ہوتی ہے اس بناپراس زمانے کو ہیروپرستی کا دور کہا جاتا ہے ۔اس زمانے میں نپولین کی جنگوں فتوحات اور شکستوں سے پورپ کی راے عامہ پر گہرے اثرات پڑے
محمد (ص) یورپ کی نظرمیں (حصہ دوم)
یورپ میں محمد کا دفاع کرنے والوں میں سب سے پہلے شخص سیمون آکلی کی ہے جنہوں نے ساراسنوں کی تاریخ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی
سترھویں صدی عیسوی میں محمد (ص) یورپیوں کے آثارمیں
سولہ سو تراسی میں ویانا کے باہر ترکوں کی شکست یورپ کے لۓ ترکوں کے خطرے میں کمی اور درحقیقت ترک حکومت کی جانب سے لاحق تشویشوں کے کم ہونے کا آغازتھی
محمد (ص) مسیح مخالف فرد کی حیثیت سے
لوتھر نے سولھویں صدی کی دوسری دھائی سے کلیسا اور پوپ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جس کے نتیجے میں کلیسا نے انہیں کافر قراردیا اس زمانے سے یورپ میں ایک بنیادی تضاد پیدا ہوگيا۔
محمد (ص) یورپ کی نظر میں
ابھی اھل یورپ کے ذھن سے صلیبی جنگوں کی یادیں محو نہیں ہوپائي تھیں کہ ترک آپہنچے اور چودہ سو ترپن میں قسطنطینیہ فتح کرلیا۔
محمد (ص)محوند کی حیثیت سے
پہلا واقعہ روم میں مقدس سلطنت کی تشکیل ہے کہ جو قدیم روم کی تہذیب و تمدن کی نابودی ، یورپ کے مختلف علاقوں میں شمالی بربرقبائل و گروہوں کے معرض وجود میں آنے نیزعیسائيت کے سرکاری مذھب کی حیثیت سے منظرعام پر آنے کا باعث بنی۔
سابقہ دروس کی امتحانی مشق ( حصّہ سوّم )
انقلاب اسلامی ایران در تاریخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیروز شد ۔
سابقہ دروس کی امتحانی مشق ( حصّہ دوّم )
انقلاب اسلامی ایران در تاریخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیروز شد ۔
سابقہ دروس کی امتحانی مشق
با کلمات جملہ بسازید
فارسی گفتاری
بوڑھی عورت : معاف کیجۓ ڈاکٹر صاحب مجھے کل رات سے ٹھنڈ لگ گئی ہے
شعری از دیوان امام خمینی ( رح ) کی مشق
ستمکشان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظلم سہنے والے
شعری از دیوان امام خمینی رح ( حصّہ دوّم )
این عید سعید حزب اللہ است ( یہ حزب اللہ کی مبارک عید ہے )
شعری از دیوان امام خمینی رح
جمہوری اسلامی ما جاوید است ( ہمارا اسلامی جمہوریہ جاویدان ہے )
قائد انقلاب اسلامي کا نمازجمعہ کے اجتماع سے خطاب
ولي امر مسلمين آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے فرمايا کہ ايران کے اسلامي انقلاب نے ملت ايران کو گھٹن کے ماحول سے باہر نکال کراور اس حقارت سے جو ايراني عوام پر مسلط کر رکھي گئي نجات دلاکر انہيں عزت و شرف اور آزادي عطا کي ہے
فعل لازم و فعل متعدی
فارسی سیکھیں،فارسی زبان،دستور زبان فارسی،فارسی کی گرائمر،آموزش فارسی،زبان ادب فارسی، فارسی ادب،فارسی اور اردو، دستور زبان فارسی
یادی از آفتاب ( حصّہ دوّم )
ایک دن امام کے ساتھیوں میں سے ایک نے سوال کیا ، کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ آپ دوستوں کی تواضح کے لیۓ اپنی زیارت اور دعا کو مختصر کر دیتے ہیں ۔ امام نے جواب میں فرمایا ، میں اس کام کے ثواب کو زیارت اور دعا سے کمتر نہیں سمجھتا ۔
یادی از آفتاب
ایران کا اسلامی انقلاب 22 بہمن / 11 فروری 1979 عیسوی کو امام خمینی رح کی رہمنائی میں کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔
سابقہ دروس کی امتحانی مشقیں ( حصّہ دوّم )
کلمہ جدید بسازید
سابقہ دروس کی امتحانی مشقیں
بزرگترین ریاضی دان ایران چہ کسی بود ؟
ی وحدت ، ی وصفی ، ی نسبی ، ی مصدری
جو “ ی “ کسی اسم کے واحد ہونے کو ظاہر کرے ی وحدت کہلاتی ہے ۔ مثلا درخت سے درختی ( ایک درخت ) روز سے روزی ( ایک دن ) جو “ ی “ کسی اسم کی صفت بیان کرے ی وصفی کہلاتی ہے ۔
مستقبل میں خلائی مخلوق سے ہمارے رابطے (حصّہ سوّم )
سنہ 1997 میں اسی قسم کے ایک پیغام نے یہ ثابت کردیا تھا کہ اس کوچھپانا ناممکن ہے۔
پچھلے دروس کی امتحانی مشق ( حصّہ دوّم )
ز دانش در بی نیازی بجوی / و گر چند سختیت آید بہ روی
فزیوتھراپی طریقہ علاج ( حصّہ سوّم )
طب میں فزیوتھراپی ایک ایسا طریقہ علاج ہے جو انسانی جسم کے طبیعیاتی عمل کی بہترین حالت میں بحالی ، محافظت اور تقویّت میں نہایت کارآمد ہے ۔
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
اصلی صفحہ
ہمارے بارے میں
رابطہ کریں
آپ کی راۓ
سائٹ کا نقشہ
صارفین کی تعداد
کل تعداد
آن لائن