صفحه اصلی تبیان
شبکه اجتماعی
مشاوره
آموزش
فیلم
صوت
تصاویر
حوزه
کتابخانه
دانلود
وبلاگ
فروشگاه اینترنتی
منگل 30 جون 2026
فارسي
العربیة
اردو
Türkçe
Русский
English
Français
تعارفی نام :
پاسورڈ :
تلاش کریں :
:::
اسلام
قرآن کریم
صحیفه سجادیه
نهج البلاغه
مفاتیح الجنان
انقلاب ایران
مسلمان خاندان
رساله علماء
سروسز
صحت و تندرستی
مناسبتیں
آڈیو ویڈیو
اصلی صفحہ
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 17
تمہارا حاکم و سر پرست بس اللہ ہے اور اس کا پیغمبر اور وہ ایمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اس حالت میں کہ وہ رکوع میں ہیں۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 16
بالفاظ دیگر اگر اللہ تعالی اس آیت میں ولیکم کی جگہ اولیائکم کا لفظ استعمال کرتا تو اس سے معلوم ہوتا کہ ولایت کی مختلف قسمیں ہیں جو بعض افراد کو مؤمنین پر حاصل ہے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 15
اس بحث کے آخر میں زمخشری کے قول کا جائزہ لیتے ہیں۔ (زمخشری اہل سنت کے بڑے مفسرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی تفسیر الکشاف میں اس آیت کی تفسیر بیان کی ہے)۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 14
لیکن جب ان آیات کی شان نزول کی طرف رجوع کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ گو کہ اللہ تعالی نے ان آیات میں منافقین کو مورد خطاب قرار دیا ہے اور منافقین کے لئے حکم صادر فرمایا ہے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 13
وہ یوں کہ خداوند متعال بالواسطہ طور پر مؤمنین سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتا ہے کہ: اگرچہ تم مؤمنین کی سرپرستی کے عہدے پر فائز نہیں ہوسکو گے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 12
نیز استاد نے بالواسطہ طور پر اپنے شاگردوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر عالم ترین نہ بھی ہوسکو کم از کم اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھو۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 11
اس آیت کو بہتر سمجھنے کے لئے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ ایک فرد کو توصیف کے ذریعے کس طرح متعارف کرایا جائے کہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں؟
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 10
اب اگر ہم ولی سے سرپرست اور صاحب مراد لیں تو یہ معنی قرآن کی دیگر آیات سے تضاد و تصادم کی صورت ہرگز پیدا نہ ہوگی کیونکہ سرپرستی کا عہدہ سب کے لئے نہیں ہوسکتا
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 9
اس بات کی وضاحت ضروری نہیں ہے کہ قرآن کلام خدا ہے اور اس میں خطا کی گنجائش نہیں ہے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 8
لفظ رکوع بھی اس قاعدے سے مستثنی نہیں ہے اور ہم قرآن مجید میں جہاں بھی اس لفظ کا سامنا کرتے ہیں، ابتداء میں اس کے لغوی معنی کو مدنظر رکھتے ہیں۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 7
زكواة یعنی اللہ کی خوشنودی کی نیت سے مال عطاء کرنا؛ اور اس کے ایک معنی، محتاجوں کو مال و دولت عطاء کرنے سے عبارت ہے؛ اور اس آیت میں زکواة کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 6
اگر اول الذکر جملے کے آغاز میں لفظ انما استعمال کیا جائے تو قیام (کھڑے ہونے کے عمل) کو محمد میں محصور و منحصر کردے گآ اور اس جملے کے معنی یہ ہونگے کہ
آیت ولایت؛ خدا، رسول خدا اور علی (ع) ہی مؤمنین کے سرپرست 5
بالفاظ دیگر آیت کے نزول کے وقت انما کا لفظ لاکر صرف تین ہستیوں کو مؤمنین کے لئے ولی قرار دیا گیا ہے پس اس آیت کے معنی کو یوں ہونا چاہئے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 4
خدا کی طرف سے انسان کی ہدایت و سعادت کے لئے والے قرآن کریم میں اللہ تعالی کی جانب سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور امام اول حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مقام ولایت کے اثبات پر مبنی متعدد دلیلیں بیان ہوئی ہیں
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 3
جب انسان اس بارے میں سوچتا ہے، اپنے آپ کو اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں میں ڈوبا ہوا پاتا ہے۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 2
چنانچہ انسان کی عقل اس کے خدا کی درگاہ کی طرف ہی لے جاتی ہے؛ کیونکہ ان حقائق کے علاوہ وہ تمام امور و معاملات میں وہ بے نیاز مطلق اور غنی مطلق ہے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 1
تمہارا حاکم و سر پرست بس اللہ ہے اور اس کا پیغمبر اور وہ ایمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اس حالت میں کہ وہ رکوع میں ہیں۔
اليوم اکملت لکم دينکم ميں اليوم سے مراد 2
آج (یا پھر کہتے ہیں کہ اس روز) کفار تمہارے دین کی طرف سے نا امید ہوگئے۔ اس آیت کو ہم قرآن کی بعض دیگر آیات شریفہ سے ملا دیتے ہیں
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-22
پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اصحاب میں اخوت اور برادری قائم کی، ابوبکر اور عمر کے میں مواخات برقرار کردی اور فلاں و فلاں کے درمیان حتی کہ علی علیہ السلام نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-21
غور فرمائیں کہ حق کا مدار و محور علی علیہ السلام کا وجود مبارک ہے یا کوں کہئے کہ حق کا دارومدار علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات گرامی ہے
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-20
تین حدیثوں پر اس مقالے کو مکمل کرتے ہیں اور حقائق کے بارے میں فیصلے کا اختیار قارئین کو دیتے ہیں:
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-19
سوال یہ ہے کہ علی علیہ السلام کو ایسا کونسا عہدہ اور منصب عطا ہوا ہے کہ آپ (ع) کو اس طرح تبریک و تہنیت دی جارہی ہے؟
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-18
فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر دین کے کامل ہونے اور نعمت کے مکمل ہونے اور میری رسالت اور علی (ع) کی ولایت سے اللہ کی خوشنودی پر؛
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-17
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے وصال کے بعد کے زمانے کے لئے انتظام کرنا چاہتے ہيں اور اپنے وصال کے بعد وجود میں آنے والے خلا کو پر کرنا چاہتے تھے
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-16
یہ گواہی اور اقرار لینے کا مقصد کیا تھا؟ کیا اس گواہی کے ذریعے رسول اللہ (ص) لوگوں کو ذہنی طور پر علی علیہ السلام کے مقام و منصب کے اعلان کے لئے تیار کررہے تھے اور انہیں اس حقیقت کے لئے تیار کررہے تھے
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-15
سوال یہ کہ رسول اللہ (ص) کے ان جملوں کی مقارنت سے مقصد کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہی نہیں ہے کہ رسول اللہ (ص) وہی مقام و منصب امیرالمؤمنین (ع) کو سونپنا چاہتے ہیں
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-14
اميرالمؤمنین علیہ السلام نے بعض اشعار معاویہ کے نام خط میں تحریر فرمائے ہیں جن میں سے آپ (ع) غدیر کے بارے میں فرماتے ہیں
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-13
چنانچہ اس حقیقت میں شک و تردد نہيں ہونا چاہئے کہ مولا سے مراد پہلے مرحلے میں اولی اور دوسروں سے زیادہ شائستہ اور زیادہ لائق ہے اور حدیث غدیر میں بھی مولا سے مراد یہی ہے۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-12
علاوہ بریں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا جیسی عظیم شخصیات نے بھی رسول اللہ (ص) کے بھائی علی (ع) کے مخالفین اور آپ (ع) کی خداداد ولایت کے دشمنوں کے سامنے حدیث غدیر سے استدلال فرمایا ہے۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت- 11
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: یا علی (ع)! اٹھو کہ بتحقیق میں اپنے بعد آپ کی امامت اور ہادی ہونے پر راضی و خوشنود ہوا
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-10
بہرحال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو جانشین کے طور پر متعین کرنے کے بعد فرمایا
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-9
حدیث غدیر کو بعد کی صدیوں میں نقل کرنے والے بھی اہل سنت کے علماء ہیں جن میں سے 360 علماء نے اپنی کتابوں میں یہ حدیث نقل کی ہے اور ایک کثیر تعداد نے اس حدیث کی سند کی صحت و استواری پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-8
ابن خلکان اور ابو ریحان البیرونی کے علاوہ مشہور سنی دانشور الثعالبی نے بھی عید غدیر کی شب کو امت اسلامی کی معروف راتوں کے زمرے میں ذکر کیا ہے
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-7
نہ صرف خطباء اور مقررین بلکہ شعراء بھی اس واقعے سے الہام لے کر اپنے ذوق کو اس عظیم واقعے کی نسبت تفکر اور صاحب ولایت کی نسبت اپنے اخلاص کے ذریعے جلا بخشتے ہیں
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-6
مذکورہ بالا خطبے کے تمام نکات میں غور کیا جائے تو اس میں علی علیہ السلام کی امامت کی زندہ دلیلیں نظر آئیں گی۔ (اس بات کی تقصیل آنے والی سطروں میں ملاحظہ ہو)۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-5
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: ایک کتاب خدا ہے جس کی جانب چدا کے دست قدرت میں ہے اور دوسری جانب تمہارے ہاتھوں میں ہے اور دوسری میری عترت یعنی اہل بیت (ع) ہیں
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-4
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے ایک چادر درخت کے اوپر ڈالی گئی اور ایک سایہ بان تیار کیا گیا۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-3
اے پیغمبر (ص)! جو اللہ کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کا کچھ پیغام پہنچایا ہی نہیں اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-2
ہیں لیکن اس واقعے کے کا دامن تاریخ و حدیث اور عربی ادب میں اتنا وسیع ہے کہ جس کو محو تو کیا وقتی طور پر مخفی کرنا بھی ناممکن ہے۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت -1
بعض لوگوں نے چند سال قبل ایک مضمون میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کو افسانہ قرار دیا تھا
آيت ولايت کے مخالفين کا جواب 9
یا سورہ احزاب کی آیت 6 میں (20) بیان ہوا ہے، یعنی سرپرست اور صاحب اختیار۔
آيت ولايت کے مخالفين کا جواب 8
بعض لوگوں نے لفظ ولیّ پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے معنی دوست، مددگار وغیرہ کے ہیں، متصرف، صاحب اختیار اور سرپرست کے نہیں نہیں۔
آيت ولايت کے مخالفين کا جواب 7
بعض لوگوں نے لفظ ولیّ پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے معنی دوست، مددگار وغیرہ کے ہیں، متصرف، صاحب اختیار اور سرپرست کے نہیں نہیں۔
آيت ولايت کے مخالفين کا جواب 6
عربی ادب میں بارہا دیکھا جاتا ہے کہ مفرد کے لئے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جیسے ہم آل عمران کی آیت 61 (آیت مباہلہ) میں نسائنا کا لفظ جمع کا لفظ ہے جبکہ اس کا مصداق
آيت ولايت کے مخالفين کا جواب 5
اس آیت میں ولایت کے معنی پر ایک اور قرینہ اور نشان و ثبوت بھی موجود ہے اور اس سے بھی ثابت ہے کہ ولایت کے معنی سرپرستی، رہبری، اور تصرف کے ہیں
آيت ولايت کے مخالفين کا جواب 4
عمر بن خطاب سے منقول ہے کہ:َ اللهِ لَقَدْ تَصَدَّقْتُ بِاَرْبَعینَ خاتَماً وَ اَنَا راکِعٌ لِیَنْزِلَ فِیََ ما نَزَلَ فی عَلِیِّ بْنِ اَبی طالِبٍ فَما نَزَلَ
آيت ولايت کے مخالفين کا جواب 3
یہ فضیلت (یعنی رکوع کی حالت میں انگشتری عطا کرنے پر آیت کا نزول) علی علی علیہ السلام کے حق میں اس قدر معروف اور مسلم ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مخالفین بھی اس کا انکار نہیں کرسکے ہیں اور نہیں کرسکیں گے
آيت ولايت کے مخالفين کا جواب 2
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: کس نے عطا کی یہ انگوٹھی؟
آيت ولايت کے مخالفين کا جواب 1
ذوالحجۃالحرام میں رونما ہونے والے واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اسی مہینے رکوع کی حالت میں انگشتری عطا کی تھی
ولايت اميرالمؤمنين قرآن کي روشني ميں17
پھر ہم دیکھیں کہ یہی علی ابن طالب ایک مقام پر کھڑے ہوجائیں اور آپ (ع) کے چہرے پر طمانچے رسید کئے جائیں
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
اصلی صفحہ
ہمارے بارے میں
رابطہ کریں
آپ کی راۓ
سائٹ کا نقشہ
صارفین کی تعداد
کل تعداد
آن لائن