صفحه اصلی تبیان
شبکه اجتماعی
مشاوره
آموزش
فیلم
صوت
تصاویر
حوزه
کتابخانه
دانلود
وبلاگ
فروشگاه اینترنتی
منگل 30 جون 2026
فارسي
العربیة
اردو
Türkçe
Русский
English
Français
تعارفی نام :
پاسورڈ :
تلاش کریں :
:::
اسلام
قرآن کریم
صحیفه سجادیه
نهج البلاغه
مفاتیح الجنان
انقلاب ایران
مسلمان خاندان
رساله علماء
سروسز
صحت و تندرستی
مناسبتیں
آڈیو ویڈیو
اصلی صفحہ
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
غدير مولي الموحدين عليہ السلام کي نظر ميں 1
علی علیہ السلام کے دور خلافت میں ایک بار عید غدیر جمعہ پر آئی تو امام (ع) نے اس روز مفصل خطبہ دیا اور اور اس حوالے سے اہم موضوعات پر بحث فرمائی۔
غدير اور آيت اکمال
آج میں نے نعمت کو آخری حد تک کامل کردیا اور نعمت کو آخری حدود تک پورا کردیا۔
عيد غدير کيوں اور کب سے ـ 4
مرحوم علامہ شیخ عبدالحسین احمد امينى نجفی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی نفیس کتاب في الکتاب و السنه و الادب میں درجنوں روایتیں اہل سنت کے باوثوق منابع سے روایت کی ہے
عيد غدير کيوں اور کب سے ـ 3
فیاض بن محمد بن عمر طوسی نے سنہ 259 ہجری کو (جبکہ ان کی 90 برس ہوچکی تھی) کہا
عيد غدير کيوں اور کب سے ـ 2
فرات اپنی سند سے فرات بن احنف کے سے روایت کرتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: کیا عید مسلمانوں کے لئے فطر، عید الضحی، جمعہ اور روز عرفہ سے بہتر بھی کوئی عید ہے؟
عيد غدير کيوں اور کب سے ـ 1
عید غدیر خم ایک حقیقی اسلامی عید ہے کیونکہ مسلمان ابتدائی تین صدیوں کے دوران اٹھارہ ذوالحجۃالحرام کو عید مناتے رہے ہیں۔
عيد غدير عيد ولايت 2
ظہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے منادی نے نماز جماعت کے لئے اذان دی؛ لوگ منبر کے روبرو جمع ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی امامت میں نماز جماعت برپا کردی۔
عيد غدير عيد ولايت 1
سوموار کا دن تھا ظہر کے قریب نبی اکرم (ص) کا عظیم قافلہ غدیر خم کے علاقے کے قریب پہنچا تو آپ (ص) نے قافلے کا رخ دائیں طرف غدیر خم کی جانب موڑا اور فرمایا:
عيد غدير سيرت اہل بيت عليہم السلام کے آئينے ميں 7
عرض ہوا: خدا و رسول اور فرزند رسول (ص) ہی بہتر جانتے ہیں؛ کیا وہ عید فطر کا دن ہے؟
عيد غدير سيرت اہل بيت عليہم السلام کے آئينے ميں 6
امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ عید غدیر کا روزہ خداوند متعال کی بارگاہ میں ایک سو قبول حج و عمرہ کے برابر ہے اور وہ خدا کی عظیم عید ہے۔
عيد غدير سيرت اہل بيت عليہم السلام کے آئينے ميں 5
حسن بن راشد کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: میری جان آپ پر فدا ہو! کیا مسلمانوں کے لئے عید فطر و قربان کے سوا بھی کوئی عید ہے؟
عيد غدير سيرت اہل بيت عليہم السلام کے آئينے ميں 4
چنانچہ عید غدیر عید ہی نہیں سب سے بڑی اسلامی عید ہے جو دنیا اور آخرت کے اجروپاداش کی نوید دے رہی ہے۔
عيد غدير سيرت اہل بيت عليہم السلام کے آئينے ميں 3
پس اللہ کی توحید اور اس کی یکتائی کا اعتراف رسول اللہ (ص) کی نبوت کے اقرار کے بغیر ناقابل قبول ہے اور دین امر الہی کی ولایت کے بغیر ناقابل قبول ہے
عيد غدير سيرت اہل بيت عليہم السلام کے آئينے ميں 2
غدیر ایک اسلامی عید ہے اور اس کو عید سمجھنا ہی کافی نہيں ہے بلکہ اس روز عید منانا بھی چاہئے اور اس کو شعائر الہیہ کے عنوان سے زندہ رکھنا چاہئے تاکہ اس عظیم دن کی قدریں پہچانی جاسکیں۔
عيد غدير سيرت اہل بيت عليہم السلام کے آئينے ميں 1
عید غدیر کا جشن رسول اللہ (ص) کے زمانے سے منایا جاتا رہا ہے اور امام صادق اور امام رضا علیہ السلام نے اس عید اور اس جشن کو آشکار کیا اور پھر امیرالمؤمنین (ع) رسول اللہ (ص) کے بعد اس عید کے احیاء کے امین تھے۔
عيد غدير خم اٹھارہ ذوالجحۃ الحرام سنہ دس ہجري
پیر کا دن تھا نبی آخرالزمان (ص) کا بڑا قافلہ ظہر سے قبل غدیر خم کے مقام پر پہنچا تو رسول اللہ (ص) نے قافلے کا رخ راستے کی دائیں جانب موڑا اور فرمایا:
علي (ع) جنہيں اب تک کسي نے پہچانا نہيں 3
مصری اسکالر اور مؤرخ ڈاکٹر طہ حسین کہتے ہيں: میں کلام وحی اور اللہ کے کلام کے بعد کلام علی (ع) سے زیادہ پرجلال اور فصیح کلام نہيں جانتا۔
علي (ع) جنہيں اب تک کسي نے پہچانا نہيں 2
علی علیہ السلام مختلف ابعاد اور پہلوؤں کی حامل شخصیت اور متضاد صفات کی جامع ہے
علي (ع) جنہيں اب تک کسي نے پہچانا نہيں 1
مجھے یاد ہے جب میں ایک نونہال بچہ ہی تھا جب زمین سے اٹھنے لگتا مجھے سکھایا گیا تھا
رسول اللہ (ص) کي جان و جانشين قرآن کي نظر ميں 3
انفسنا یعنی پیغمبر (ص) کی جان اور آپ (ص) کا نفس (Self)، اور اس تعبیر سے سمجھا جاتا ہے کہ علی پیغمبر (ص) کی مانند اور پیغمبر (ص) جیسے ہيں چنانچہ آپ (ص) کے وصال کے بعد کسی ایسے فرد کو پیغمبر (ص) کی جگہ بیٹھنا چاہئے
رسول اللہ (ص) کي جان و جانشين قرآن کي نظر ميں 2
لیکن یاد رکھو اگر پیغمبر اسلام (ص) اپنے خاص اور قلیل افراد کے ساتھ میدان میں آئیں تو جان لو کہ وہ خدا کے نبی (ص) ہیں اور مباہلے سے اجتناب کرو کیونکہ مباہلے کی صورت میں نیست و نابود ہوجاؤگے
رسول اللہ (ص) کي جان و جانشين قرآن کي نظر ميں 1
لفظ مباہلہ دو افراد یا دو فریقوں کے درمیان نفرین کے معنی میں استعمال ہوا ہے ایسے دو افراد یا گروہوں کے درمیان جو بات چیت کے لئے بیٹھتے ہیں تا ہم ایک دوسرے کا عقیدہ اور نظریہ قبول نہیں کرتے
حديث غدير متواتر ہے 3
استاد شہید مطہری ہدایت اور روشنی کی اس حدیث کی یوں تشریح کرتے ہیں:
حديث غدير متواتر ہے 2
بظاہر عباسی بادشاہ مأمون کے زمانے کے بعد اور متوکل عباسی کے دور حکومت کے قریب تالیف ہوئی ہے۔
حديث غدير متواتر ہے 1
استاد شہید حدیث غدیر کے تواتر کو شیعہ مکتب کی طرف سے امامت کے موضوع کی ایک اہم دلیل سمجھتے ہیں اور لکھتے ہیں:
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 16
علامہ عبدالحسین امینی رحمۃاللہ علیہ نے اہل سنت کے کئی اور منابع کا بھی حوالہ دیا ہے جن میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے۔
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 15
جن لوگوں نے حدیث غدیر کی حقیقت کو چھپایا اور کتمان حقیقت کے مرتکب ہوئے اور امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ان پر نفرین کردی
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 14
سب سے طویل خطبہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنی خلافت کے دور میں کوفہ میں ارشاد فرمایا جب عید غدیر جمعہ کے ساتھ ہمزمان ہوئی۔
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 13
اس بات پر کہ میں ہی ولی امر ہوں، نہ کہ دوسرے قریشی، میری دلیل وحجت یہ ہے کہ: ولایت اس شخص کا حق ہے جس نے آزاد کیا ہو۔
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 12
اس کے بعد امیرالمؤمنین (ع) نے اجتماع میں موجود انس بن مالک سے مخاطب ہوکر فرمایا: تم بھی اس دن غدیر خم میں موجود تھے، تمہیں ہوا کیا ہے
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 11
زید بن ارقم نے کہا: حق وہی ہے جو تم نے دیکھا اور سنا ہے میں نے یہ ساری باتیں رسول اللہ (ص) سے سنی ہیں۔
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 10
مؤرخین نے لکھا ہے کہ زید بن ارقم عمر کے آخری لمحوں تک یہ شہادت نہ دینے پر متأسف تھا اور ندامت و پشیمانی کا اظہار کرتا رہتا تھا۔
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 9
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: ان کے اختیارات میرے اختیارات کی مانند ہیں۔ جس کے اوپر میرا اختیار اس کے اپنے اختیار سے زیادہ ہے اس پر علی کا اختیار بھی اس کے اپنے اختیار س زیادہ ہے۔
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 8
لوگوں نے رسول خدا (ص) سے پوچھا: کیا ان آیات میں مؤمنین سے مراد تمام مؤمنین ہیں یا خاص اور بعض افراد ہی اس کا مصداق ہیں؟
حديث غدير ميدان صفين ميں
جنگ صفین میں معاویہ کے ایلچیوں کا ایک گروہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس پہنچا جو بقول خود، امیرالمؤمنین (ع) اور معاویہ کے درمیان صلح برقرار کرنا چاہتا تھا۔
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 6
آپ (ع) نے اپنے بعض مناقب، سوابق اور کارنامے گنوائے اور حاضرین نے آپ (ع) کے صدق کلام کی تصدیق کی۔
حديث غدير چھ رکني شوري ميں
خلیفہ ثانی نے انتخاب خلیفہ کے لئے شوری تشکیل دی؛ امیرالمؤمنین (ع) بھی شوری کے رکن تھے، اور اس شوری میں امیرالمؤمنین (ع) سے متعدد استدلالات نقل ہوئے ہیں
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 4
امیرالمؤمنین (ع) اس خطبے میں حدیث غدیر سے استناد کیا اور آیت اکمال دین کے نزول اور شان نزول کی تصریح کیا۔ ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی نے روضۃ الکافی میں خطبہ وسیلہ نقل کیا ہے۔
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 3
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: میں اس شخص کو خدا کی قسم دلاتا ہوں جس نے غدیر خم کے دن سنا ہو کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: جس کا میں مولا و سرپرست ہوں یہ علی اس کے مولا اور سرپرست ہیں
حديث غدير مدينہ منورہ ميں
یہ وہ زمانہ تھا جب آپ (ع) کو بیعت کے لئے مسجد لایا گیا۔ آپ (ع) نے اپنی حقانیت بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کی خلافت کو اپنا حق قرار دیا اور بیعت سے امتناع کیا۔
حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 1
حدیث غدیر مسلمانوں کے نزدیک صحیح اور متواتر حدیث ہے اور سب کا اعتراف ہے کہ روز غدیر رسول اللہ (ص) نے خدا کے حکم سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو ولایت و خلافت کا منصب سونپ دیا ہے
جان کي توصيف حبيب (ص) کي زبان سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص حضرت نوح علیہ السلام کو ان کے عزم و ارادے میں دیکھنا چاہےاور حضرت آدم علیہ السلام کو ان کے علم و دانش میں دیکھنا چاہے
جان کي توصيف حبيب کي زبان ميں 2
رسول اللہ نے مزید فرمایا: میں نے اس سے قبل کسی کو اس نام سے نہیں پکارا اور اس کے بعد کسی کو اس نام سے نہیں پکاروں گا۔
جان کي توصيف حبيب (ص) کي زبان سے 1
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے علی علیہ السلام کی کی بے انتہا شخصیت، بے مثل اور بے پایان فضائل کے بارے میں بے شمار حدیثیں وارد ہوئی ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 23
مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق قرآن کریم اللہ تعالی کی کتاب ہے اور براہ راست خداوند متعال کی جانب سے نازل ہوئی ہے۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 22
بعض روایات میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا گیا ہے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 21
اس آیت اور اس کی مشابہ آیات جیسے (( ..... وان تتولوا يستبدل قوما غيرکم ثم لا يکونوا امثالکم (سورہ محمد (ص) آيت 38)) کے ذیل میں رسول اللہ (ص) نے سلمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 20
اور حسن بن علی العلوی اپنے دادا سے اور وہ احمد بن یزید سے اور وہ عبدالوہاب سے اور وہ مُخلّد سے، مخلد مبارک سے اور مبارک حسن سے روایت کرتے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 19
اور کہا گیا ہے کہ: یہ وہ اسناد ہیں جن میں کوئی شک نہیں ہے اور حافظ ابن مردویہ امیرالمؤمنین (ع) اور عمار اور ابو رافع کے الفاظ میں
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 18
رازی اپنی تفسیر کی جلد 3 صفحہ431 پر عطاء سے اور وہ عبداللہ بن سلام اور ابن عباس اور ابوذر بن خازن اپنی تفسیر کی جلد 1 صفحہ 431 اور ابوالبرکات اپنی کی جلد1 صفحہ 496۔
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
اصلی صفحہ
ہمارے بارے میں
رابطہ کریں
آپ کی راۓ
سائٹ کا نقشہ
صارفین کی تعداد
کل تعداد
آن لائن