صفحه اصلی تبیان
شبکه اجتماعی
مشاوره
آموزش
فیلم
صوت
تصاویر
حوزه
کتابخانه
دانلود
وبلاگ
فروشگاه اینترنتی
منگل 30 جون 2026
فارسي
العربیة
اردو
Türkçe
Русский
English
Français
تعارفی نام :
پاسورڈ :
تلاش کریں :
:::
اسلام
قرآن کریم
صحیفه سجادیه
نهج البلاغه
مفاتیح الجنان
انقلاب ایران
مسلمان خاندان
رساله علماء
سروسز
صحت و تندرستی
مناسبتیں
آڈیو ویڈیو
اصلی صفحہ
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
عقيدہ آخرت پر يقين برائيوں سے بچاتا ہے ( حصّہ دوّم )
بعض لوگ اپنی عقل کی خامی ونارسائی کی وجہ سے ، آخرت اور جنت ودوزخ اور وہاں کے ثواب وعذاب کی ان تفصیلات کے بارے میں ، جو قرآن وحدیث میں وارد ہوئی ہیں ، شکوک کا اظہار کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں
نيکوکاروں کو ان کي نيکو کاري کي اور مجرموں کو ان کي بدکرداري کي جزا اور سزا ملے گی
یہ مجرمین جنہوں نے بد کاریوں کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے ، کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کو اپنے ان نیک بندوں کی طرح کردیں گے
قرآن کے متعلق غور طلب باتيں
سوچیں اور غور کریں!کیا قرآن اسی لئے نازل ہوا تھا کہ ہم اس پر پھول پتیوں کے بوٹوں سے بنے جزدان چڑھا کر اسے طاق پر سجا دیں تاکہ جو بھی آئے ہمارے سلیقہ کی داد دیئے بنا نہ رہ سکے؟
مسلمانوں کي ترقي کا راز اسلامي تعلميات پر عمل پيرا ہونے ميں ہے
اسلام انسان کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اس سرچشمہ حیات تک لے کر جاتا ہے جہاں انسانیت دوام و بقا سے ہمکنارہوتی ہے جہاں انسانی قدروں کو جلا ملتی ہے۔
مسلمان کو مغربي ثقافت سے بچنا چاہيۓ
افسوس کا مقام تو یہی ہے کہ نہ صرف یہ کہ آج کا مسلمان یہ جاننے کی واقعی کوشش نہیں کرتا کہ اسکی پسماندگی ِ، جوامع بشری اور اقوام عالم میں حقارت کے کیا اسباب ہیں؟
مسلمانوں کو قرآن کي روشني ميں زندگي بسر کرني چاہيۓ
قرآن کے سلسلہ میں دیگر مذاہب سے متعلقہ مفکرین اور مستشرقین کے نظریات اس قدر ہیں کہ انکے جائزہ کے لئے کئی مستقل کتابیں درکار ہیں
قرآن کي آفاقيت اور مستشرقين و مفکرين کے نظريات
یوں تو ہر قوم اپنے علمی سرمایہ اور ملی تشخص کو بیان کرنے والی کتاب پر افتخار کرتے ہوئے سر دھنتے نہیں تھکتی اور اسکی ثنا خوانی کرتی نظر آتی ہے
قرآن ايک کامل منشور حيات
دنیا میں کوئی ایسی قوم نہیں جو یہ دعوی کر سکے کہ وہ دستور حیات اورآئین زندگی جو ایک مذہبی ، قومی یا وطنی نوشتہ کی صورت میں ہمارے پاس ہے یہ وہی منشور حیات ہے جسکو اس کائنات کے پیدا کرنے والے خالق اکبر نے ہمارے لئے بھیجا
سائنس کي بہتر سمجھ کے ليۓ قرآني رہنمائي ضروري ہے
اس حقیقت کی مزید تشریح وتوضیح کرتے ہوئے علامہ اقبال نے واضح طور پر کہا ہے کہ سائنس ابھی اْن حقائق تک مکمل طور پر نہیں پہنچ پایا ہے جن حقائق اور واردات کی نشاندہی قرآن نے آج سے چودہ سوسال پہلے کرکے رکھی ہے۔
اسلام اور روحانيت
فرانس کے طالع آزما سکندر زمانہ نپولین بونا پارٹ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب میں سارے ممالک کے سمجھدار اور تعلیم یافتہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں گا اور قرآنی اصولوں کی بنیاد پر متحدہ حکومت قائم کروں گا ۔
اسلام کا وجود و ظہور انساني تاريخ کا سب سے اہم اور قابلِ ذکر واقعہ ہے
فرانس کے طالع آزما سکندر زمانہ نپولین بونا پارٹ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب میں سارے ممالک کے سمجھدار اور تعلیم یافتہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں گا اور قرآنی اصولوں کی بنیاد پر متحدہ حکومت قائم کروں گا ۔
شمار سبحہ مرغوب بتِ مشکل پسند آیا / تماشائے بیک کف بردنِ صد دل پسند آیا
مرغوب آیا ، یعنی مرغوب ہوا ، مشکل پسند بت کی صفت ہے محض قافیہ کے لئے حاصل اس شعر کا یہ ہے کہ اُسے ایک ہتھے میں سو سو دل عاشقوں کے لے لینا پسند ہے
دھمکی میں مرگیا جو نہ باب نبرد تھا /عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا
باب نبرد یعنی لائق نبرد مطلب یہ ہے کہ جو شخص مرد میدانِ عشق نہ تھا وہ اس کی دھمکی ہی میں مرگیا ، میر ممنون کے کلام میں باب ان معنی پر بہت جگہ آیا ہے ۔
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گيا /آتش خاموش کے مانند گویا جل گیا
یعنی چپکے چپکے کس طرح جلا کیا کہ کسی کو خبر نہ ہوئی ، ’ گویا ‘ کا لفظ خاموش کی مناسبت سے ہے ، ’ مانند ‘ کا لفظ بول چال میں نہیں ہے ، مگر شعراء نظم کیا کرتے ہیں ۔
کہتے ہو نہ ديں گے ہم دل اگر پڑا پايا / دل کہاں کہ گم کیجئے ہم نے مدعا پایا
یعنی تمہاری چتون یہ کہہ رہی ہے کہ تیرا دل کہیں پڑا پائیں گے تو پھر ہم نہ دیں گے ، یہاں دل ہی نہیں ہے جسے ہم کھوئیں اور تمہیں پڑا ہوا مل جائے ، مگر اس لگاوٹ سے ہم سمجھ گئے دل تمہارے ہی پاس ہے ۔
جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغِ جگر ہديہ /مبارکباد اسد غم خوارِ جانِ دردمند آیا
مشہور ہے کہ الماس کے کھالینے سے دل و جگر زخمی ہو جاتے ہیں تو جو شخص کہ زخم دل و جگر کا شائق ہے ، الماس اُس کے لئے ارمغاں ہے ، یہ سارا شعر مبارکبادی کا مضمون ہے
نقش فريادي ہے کس کي شوخي تحرير کا /کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
مصنف مرحوم ایک خط میں خود اس مطلع کے معنی بیان کرتے ہیں کہتے ہیں ، ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے ، جیسے مشعل دن کو جلانا یا خون آلودہ کپڑا بانس پر لٹکا لے جانا ، پس شاعر خیال کرتا ہے
مولانا شعر کو ہنر مندي کاذريعہ نہيں بناتے
وہ شعر کو ہنر مندی کاذریعہ نہیں بناتے۔ وہ تو ان کے لیے آئینہ روح ہے ۔ وہ زندگی سے ناامید نہیں ہوتے ۔
شيعه مکتب کي ہاں فروع دين دس ہيں جو قرآن و حديث سے مأخوذ ہيں
فروع دین میں اجتہاد و تحقیق کا باب الی الابد کھلا ہے اور شیعہ محدثین و فقہاء کو ہی اجتہاد کا حق حاصل ہس مگر اجتہاد تشیع کس ہاں قرآن و سنت و عقل و اجماع پر مبنی ہے
اہل تشيع کے اصول عقائد
شیعہ توحید و نبوت و معاد کے علاوہ عدل الہی اور امامت کو اصول دین قراردیتے ہیں اور ان اصولوں میں تقلید کو جائز نہیں سمجھتے بلکہ ان اصولوں میں تحقیق کے قائل ہیں.
سلجوقيوں کيے خلاف کئي شيعہ تحريکيں اٹھيں جن ميں بعض تحريکيں کامياب بھي ہوئيں
سلجوقیوں کیے خلاف کئی شیعہ تحریکیں اٹھیں جن میں بعض تحریکیں کامیاب بھی ہوئیں؛ مثلاً مصر میں فاطمی سلاطین کی بادشاہت قائم ہوئی جو شمالی افریقہ تک پہیل گئی اور یہ حکومت کئی صدیوں تک جاری رہی.
عباسيوں کے دور ميں تشيع کي عددي افزودگي توجہ طلب ہے
عباسیوں نے اموی بادشاہت کے خلاف قیام کیا تو امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام کا دور تھا اور ان دو معصوم اماموں نے اس موقع سے استفادہ کرکے تفکر شیعہ کو زندہ کیا اور تشیع بالیدگی اور ترقی کے راستے پر گامزن ہوا
اشعار ابو طالب عليہ السلام
آخر میں حضرت ابو طالب علیہ السلام کی پر مغز اشعار کے کچھ ابیات پیش کئے جارہے ہیں جن سے کسی حد تک خدا اور اس کے رسول (ص) پر ان کی ایمان راسخ اور اعتقاد عمیق کا اندازہ کیا جاسکتا ہے
ابو طالب عليہ السلام ، علي عليہ السلام کے والد ماجد
ابوطالب (ع) کو اللہ تعالی نے ایک ایسے فرزند سے نوازا جو زمانے کے بہترین فرزند تھے. اس فرزند کی ولادت بھی ایسی ہوئی جس کی مثال اس سے پہلے کبھی بھی نظر نہیں آئی اور بعد میں میں بھی نظر نہیں آئے گی.
حضرت ابوطالب اور رسول خدا (ص) کي حفاظت و حمايت
قریش کے تمام مشرک قبائل نے شعب ابی طالب (ع) میں خاندان رسالت اور مسلمانوں کو مکہ سے جلاوطن کیا اور شعب ابی طالب (ع) میں ان کی ناکہ بندی کردی. یہ ناکہ بندی معاشی، سماجی اور سیاسی ناکہ بندی تھی.
دين اسلام کے مبلغين کے حامي
سنی عالم و مورخ و ادیب ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں: ولولا ابوطالب علیہ السلام وابنہ/ لما مثل الدین شخصا وقاما/فذاک بمکة آوی وحامی/ وھذا بیثرب جس الحماما
حضرت ابوطالب اور پيامبر اکرم سے واضح و روشن حمايت
جب آیت «وانذر عشيرتك الاقربين» نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے رشتہ داروں کو بلا کر
امام زمان (عج) کے حقيقي ياروں کي ايک امتيازي خصوصيت شھادت طلبي ہے
امام زمان (عج) کے حقیقی یار و دوستوں کی بھی ایک اور اہم امتیازی خصوصیت حریت پسندی اور ظلم ستیزی ہے ۔
حريت پسندي اور ظلم ستيزي يا آزاد جينے کا مطالبہ اور ظلم کے خلاف مقابلہ
حریت پسندی اور آزادگی ، آزادی سے برتر ہے اور وہ ایک طرح کی انسانی حریت اور ذلت آور اور حقارت پسند قید و بندش سے رہائی ہے ۔
تفکر خلافت کے پيروکاروں کي تعداد کيوں تفکر امامت کي نسبت زيادہ ہے؟
تفکر خلافت اگر چہ طلحہ کے ہاتھوں عثمان بن عفان کے قتل کے بعد تقریبا ختم ہوکر رہ گئی اور معاویہ نے اپنے فاسق و فاجر بیٹے یزید کی ولیعہدی کا اعلان کرکے اس طرز فکر کا گلا گھونٹ دیا
ماسکو: يورپ ميں مسلمانوں کے بڑے شہروں ميں سے ايک
روس کے صرف ایک مرکز میں اسلام قبول کرنے والی دس ہزار خواتین نے رجسٹریشن کرائی ہے۔
امام معصوم طلاق کا عمل اتني مرتبہ کيونکر انجام دے سکتا ہے؟
جو امام معصوم خالق یکتا کے حضور اس طرح لرزہ بر اندام ہو کر حاضر ہوتے ہیں وہ خدا کو چار سو مرتبہ کیونکر ناراض کرسکتے ہیں اور طلاق کا عمل اتنی مرتبہ کیونکر انجام دے سکتا ہے جو حلال اعمال میں سب سے مغضوب ترین عمل ہے؟
يہ روايات امام حسن مجتبي (ع) کي شان و شخصيت کے منافي ہيں
جس طرح کہ اس سے پہلے بھی اشارہ ہوا یہ عمل امام حسن مجتبی علیہ السلام کے مقام و شخصیت سے سازگار نہیں ہے
ہم اہل بيت سے کسي کا بھي قياس نہيں کيا جاسکتا
ہم اہل بیت سے کسی کا بھی قیاس نہیں کیا جاسکتا (کبھی بھی کسی کے بارے میں نہیں کہا جاسکتا کہ فلان شخص اہل بیت رسول کی مانند ہے)۔
ميري اہل بيت ميں حسن و حسين (ع) سے سب سے زيادہ محبت کرتا ہوں
قال رسول الله (ص): احب اهلبیتی الی الحسن و الحسین۔ میری اہل بیت اور میرے خاندان میں میں حسن و حسین (ع) سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔
امام حسن عليہ السلام اور تہمت طلاق روايات کا تيسرا گروہ
اس قسم کی روایات میں امام حسن علیہ السلام کی شادیوں کی تعداد بیان ہوئی ہے
افغاني کا پيام
علامہ سید جمال الدین افغانی کی یاد منانے، ان کے افکار سے اپنی زندگیوں کے لئے سامان حیات پیدا کرنے آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں۔
ہندوستان ميں تو الہلال کي اشاعت سے پہلے غالباً لوگ سيد جمال الدين کے نام سے بھي آشنا نہ تھے
ہندوستان میں تو الہلال کی اشاعت سے پہلے غالباً لوگ سید جمال الدین کے نام سے بھی آشنا نہ تھے۔ ۱۸۷۹ء میں جب وہ حیدرآباد اور کلکتہ میں مقیم تھا تو ہندوستانی مسلمانوں میں سے صرف ایک شخص یعنی مرحوم عبد الغفور شہباز تھا۔
مذہب اور علم دونوں ميں جمال الدين افغاني کي مصلحانہ ذہنيت نماياں ہوتي ہے
مذہب اور علم دونوں میں اس کی مصلحانہ ذہنیت نمایاں ہوتی ہے۔ اور کسی گوشے میں بھی اس کے قدم وقت کی مقلدانہ سطح سے مس نہیں ہوتے۔
سیّد جمال الدین اسد آبادی ادبِ عربي کا ايک عجمي متعلم تھا
وہ ادبِ عربی کا ایک عجمی متعلم تھا۔ جس نے بعید ترین عجمی ممالک میں عجمی اساتذہ سے ناقص اور گمراہ قسم کی ابی تعلیم حاصل کی تھی
سودا ايک غزل گو شاعرکي حيثيت سے
کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا/ ساغر کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں
زہرہ کا زمين اور سورج کے درميان سفر
دنیا بھر میں ستاروں سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو کہکشاں کے ایک ایسے نظارے کا موقع مل رہا ہے جو شاذونادر ہی وقوع پذیر ہوتا ہے اور یہ وہ موقع ہے کہ زہرہ اپنے مدار میں گردش کرتا ہوا سورج اور زمین کے درمیان میں گذرے گا۔
امريکي ڈرون اپنے عروج سے زوال کي طرف جانے والے ہيں
اس قسم کے رابطوں کی دس سے گيارہ عدد کے کوڈ سے حفاظت کی جاتی ہے جو مواصلات کی دنیا میں قابل ذکر سکیورٹی کے حامل تصور کیے جاتے ہیں۔
امام حسن عليہ السلام اور تہمت طلاق اور روايات کا دوسرا گروہ
ان روایات میں گویا امیرالمؤمنین علیہ السلام نے امام حسن کی متعدد شادیوں اور بار بار طلاق سے شدید تشویش ظاہر کی ہے
مسلمانوں پر اسلامي انقلاب کے اثرات کي سچائي
اسلامی انقلاب کے اسلامی بیداری پر پڑنے والے اثرات کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔
آسٹريا: اسلام سو برس سے تسليم شدہ مذہب
مسلمانوں سے تعلقات کی بات ہو تو آسٹریا کی تاریخ کچھ زیادہ شفاف نہیں لیکن وہاں اسلام کے بارے میں قدیم قانون کو رواداری کی نشانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آر کيو 170
امریکہ کی جانب سے اس خبر کو چھپانے اور جھٹلانے کی وجہ یہ تھی کہ 44 ارب ڈالر مالیت کے پروجیکٹ اور ان کی نصف صدی کی تحقیقات کا نتیجہ، ایران کے پاس تھا۔
روس اور اسلامي ايران
امام خمینی رح جو اس ملک اور اس کے تفکرات اور اصولوں کو بالکل بھی قبول نہیں کرتے تھے ، اسلام و قرآن کے دفاع کے لیۓ الحادی تفکرات کے خلاف امام کے دل میں جو نفرت تھی
الله کي ہستي تو بہت بلند ہے
اس کے برعکس الله کے بہت سے بندوں کو اس حال میں بھی دیکھا جاتا ہے ، کہ وہ بیچارے بڑی پرہیز گاری اورپارسائی کی زندگی گزارتے ہیں
قرآن کے الفاظ عام انسان کے ليۓ قابل فہم
دراصل قرآن حکیم کی تعبیرات کا کمال یہی ہے کہ اس میں قدرت کی ظاہری نشانیوں کو غیبی حقائق کے لئے بطور دلیل پیش کیا گیا ہے ۔
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
اصلی صفحہ
ہمارے بارے میں
رابطہ کریں
آپ کی راۓ
سائٹ کا نقشہ
صارفین کی تعداد
کل تعداد
آن لائن