• میرے آقا مبارک ہو
    • اس قصیدہ کا شاعر عباس رضا نیر جلال پوری ہیں اور اس کا مداح سید امیر حسن عامر ہیں۔ اس قصیدے میں حضرت فاطمہ اور حضرت علی(ع) کی شادی پر مبارک باد پیش کیا جا رہا ہے
    • سسرال جا رہی ہے
    • یہ قصیدہ حضرت زہرا (س) کی شادی کے بارے میں ہے ۔ شادی کا دن حضرت فاطمہ(س) سجا کر اپنے شوہر کے گھر جانے کے لیے تیار ہو گئی تھی۔ سب جگہ خوشبو پھیل گئی تھی اور سب لوگ خوشیاں منا رہے تھے ۔
    • دختر مصطفی
    • یہ قصیدہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ(س) کی شادی کے واقعے کو بیان کرتا ہے۔ ان کی شادی کا دن اتنا عظیم دن تھا کہ اس دن میں ساری حوریں کنیزی کرنے کے لیے آئی تھیں۔
    • حضرت علی(ع) کا سہرا
    • یہ قصیدہ مولا علی(ع) اور حضرت زہرا(س) کی شادی کےبارے میں ہے۔ اس قصیدہ کا شاعر عباس رضا نیر جلال پوری ہیں اور اس کا مداح سید امیر حسن عامر ہیں۔ اس قصیدے میں ایسا بیان ہوگیا ہے کہ: پوری دنیا میں یہ فضیلت صرف علی(ع) اور حضرت فاطمہ(س) کو حاصل ہے جن کا نکاح د
    • حضرت زہرا (س) کی شادی
    • یہ قصیدہ حضرت زہرا(س) اور حضرت علی(ع) کی شادی کے بارے میں ہے۔ اس قصیدے میں ایسا بیان ہوگیا ہے کہ حضرت علی(ع) اور حضرت فاطمہ(س) کی شادی کے دن ایک بہت مبارک دن تھا جس میں سب خوش تھے
    • ایران کی تشویش دور کرنے کی کوشش کریں گے
    • پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ اسلام آباد ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد پر سیکورٹی کی صورتحال کے بارے میں ایران کی تشویش کو دور کرنے کے لۓ اپنی پوری کوشش کرے گا
    • افغانستان میں پولنگ کا آغاز
    • افغانستان میں آج صدارتی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات کے لۓ ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق صدر کے عہدے کے لۓ آٹھ امیداروں کے درمیان مقابلہ ہوگا
    • اعلي خاندان کي اعتقادي ضرورت (حصہ ششم)
    • ابراهیم (علیه السلام) بھاری امتحانوں کے بعد امامت کی مقام پر فائز ہوئے اور اللہ سے یہ مانگا کہ اسی کے خاندان سے اور شخص امامت کی مقام پر پہنچ پائے اور اللہ تعالی نے بھی اس کے خاندان سے ناصالح فرزند کو امامت سے الگ کردیا:
    • اعلي خاندان کي اعتقادي ضرورت (حصہ پنجم)
    • جب وہ نااہل خاندانوں کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں جن کی بات قرآن میں ہوئی ہے تو ہمیں معلوم ہوجاتاہے کہ جیسے اللہ تک پہنچنے کےلیے خاندان کے اراکیں کی ہمراہی بہت اہم ہے ویسے ہی گناہ کرنے میں ان کی ہمراہی اور ہمدلی ان کے فنا اور بربادی کا باعث بن جاتاہے
    • اعلي خاندان کي اعتقادي ضرورت(جصہ چہارم)
    • اسی طرح اگر آگے جائیں تو ہم حضرت یعقوب(علیہ السلام) تک پہنچتے ہیں جو اپنے گناہکار مگر نادم اولاد کی حق میں دعا کرتا ہے جو یوسف (علیہ السلام) کو سالوں سال ان سے دور کیا تھا اور کہتا ہے:
    • اعلي خاندان کي اعتقادي ضرورت(حصہ سوم)
    • لیکن حضرت اسماعیل (علیه السلام) کے ساتھ حضرت ابراهیم (علیه السلام) کا برتاؤ سے متعلق اس بات کو نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ یہ باپ بیٹے نے ایک دوسرے کے کمال کے لیے قربانی دینے وقت اپنے آپ سے کیا ردعمل دکھایا
    • تناؤ اور موٹاپا
    • شاید آپ نے بھی سنا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ زیادہ کھانا نہیں کھاتے ہیں پھر بھی دن بہ دن موٹے ہوتے جارہے ہیں۔ اگر ان لوگوں کی نفسیاتی حالات پر توجہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوجاتاہے کہ یہ لوگ دوسروں سے زیادہ پریشان اور بےچین رہتے ہیں۔
    • صوبہ یزد
    • صوبہ یزد ایران کا صحرایی علاقہ ہے اور ایرانی زرتشتیوں کا سب سے بڑا گروہ اسی صوبے خاص طور پر یزد کے شہر میں رہتے ہیں۔ صوبہ یزد ایک تاریخی علاقہ ہے جو پارس، اصفہان، کرمان اور خراسان جیسے پرانے شہروں کے درمیان واقع ہے۔
    • اصفہان کا جامع مسجد
    • یہ مسجد ایران کے اہم پرانے مذہبی مقامات میں سے ہے۔ یہ مسجد اسلامی تعمیر کا ایک اچھا نمونہ ہے۔
    • صوبہ گیلان
    • یہ صوبہ ایران کے شمالی علاقوں میں واقع ہے۔ جس کی فطرتی مناظر ہرے بھرے جنگلوں سے ڈھکا ہوا ہے۔
    • بیشہ کا جھڑنا
    • یہ جھڑنا صوبہ لرستان کے حسین فطرتی مناظر سے ہے جو زاگرس کے پہاڑوں کے درمیان واقع ہوا ہے۔
    • بالقیس کا پہاڑ
    • یہ پہاڑ تخت سلیمان سے آٹھ کلومیٹر سے دور ہے۔ جس کے دو چوٹیاں ہیں اور ان کے درمیان ایک بہت خوبصورت جھیل ہے۔
    • امیری کا گھر
    • یہ گھر قجر پادشاہوں کے زمانے سے متعلق ہے۔ یہ گھر جو مشہد میں واقع ہوا ہے ایران کی پرانی عمارتوں کا ایک اچھا نمونہ ہے۔
    • الوند کا پہاڑ
    • یہ پہاڑ الوند کے سلسہ پہاڑوں کا سب سے اونچا(3584 میٹر) پہاڑ ہے جو شہر ہمدان میں واقع ہے۔ کہا جاتاہے کہ اروند نام کے کسی آدمی یہاں دفن ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ پہاڑ الوند کے نام سے موسوم ہے۔
    • کشمیر ، ایران صغیر
    • ایران اور کشمیر میں اتنی مماثلتیں اور نزدیکیاں موجود ہیں کہ کشمیر کو ایرانِ صغیر کا نام دیا گیاہے۔کشمیر کے حسن و جمال، قدرتی مناظر اور دلکش ذخائر کی مثال دنیا کے کسی گوشے میں نہیں ملتی۔
    • وحشی گھوڑوں کا جزیرہ
    • کسی زمانے میں آشوردہ میں 1000سے زیادہ لوگ رہتے تھے اور کھیتی باری اور مچھلی پکڑنے جیسے کاموں میں مصروف تھے مگر سیل آنے کی وجہ سے سوائے گھوڑے کے اب وہاں کوئی نہیں رہتا۔ آشوردہ کے گھوڑوں کی عمر نمکی پانی پینے کی وجہ سے معمول سے کم ہے۔
    • ورزنہ کی صحرا
    • یہ صحرا صوبہ اصفہان پر واقع ہے جو شہر اصفہان کے 100 کلومیٹر مشرق سے اور یزد کے مغرب میں 150 کلومیٹر سے دور ہے۔
    • خاک رس سے قالیں
    • داماہی کا مٹی قالیں جو 1600 متر مربع تک پھیلا ہوا ہے جو رنگارنگ مٹیوں سے جزیرہ ہرمز کے ہنرمندوں کے ہاتھ سے بنایا ہوا ہے۔ پرانے لوک کہانیوں کے مطابق داماہی ایک عظیم مچھلی کا نام تھا جو مشکل وقتوں میں وہاں کے لوگوں کی مدد کرتی تھی۔
    • تہران میں فرنگی ٹوپی
    • فرنگی ٹوپی کی عمارت مظفرالدین شاہ کے دور میں تہران کے فرح آباد میں(پیروزی سڑک کے قریب) تعمیر کی گئی ہے۔ اس عمارت کا معمار فرانسوی تھا۔
    • ایلام میں برفی فطرتی مناظر
    • ایلام کے لمبے لمبے موسم سرما برفباریوں سے بھرپور ہے۔ اسی سے دوگنے خوبصورتی اور حسن اس کے مناظر فطرت میں پایا جاتاہے۔
    • قابو یافتہ دماغ
    • قابو یافتہ دماغ طاقت ور ہوتاہے۔ کمزور دماغ گناہ پر مائل ہوتے ہیں۔ طاقت ور دماغ ایسا کبھی نہیں کرتے۔ پاگل شخص کا دماغ کمزورتریں ہوتاہے، کیون کہ اسے اپنے خیالات اور حرکات پر کوئی قابو نہیں ہوتا۔ لہذا ذہن پر قابو رکھنا لازمی ہے۔